[غزل بہانہ کروں [BOOK] Free Download DOC by Ahmad Faraz

Read غزل بہانہ کروں

طرح بھلاؤں اسے غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے وہ خار خار ہے شاخ گلاب کی مانند میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے میں کیسے بات کروں اب نامور شاعر احمد فراز کو بچھڑے برس بیت گئے – Mashri TV ویب ڈ یسک ملک کے نامورترقی پسند شاعر، ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز، نگار ایوارڈز اورہلال پاکستان کے حامل ممتازماہر تعلیم و شعر نگار احمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے آج برس ہوگئے۔ ترقی پسند شاعر احمد فراز کو بچھڑے بارہ برس بیت گئے ہم نیوز احمد فراز کے مجموعہ کلام تنہا تنہا، درد آشوب، شب خون، میرے خواب ریزہ ریزہ، بے آواز گلی کوچوں میں، نابینا شہر میں آئینہ، پس انداز موسم، سب آوازیں میری ہیں، خواب گل پریشاں ہے، بودلک، غزل بہانہ کروں، جاناں جاناں اور اے نامورشاعر احمد فرازکو مداحوں سے بچھڑے برس گزرگئے کراچی ملک کے نامورترقی پسند شاعر، ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز، نگار ایوارڈز اورہلال پاکستان کے حامل ممتازماہر تعلیم و شعر نگار احمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے آج برس ہوگئے۔ نامورشاعراحمد فراز جنوری کوکوہاٹ میں پیدا یہ عرض پھر کروں گا مکمل غزل YouTube Please Like Subscribe for ⚘⚘ Copyright Disclaimer Under Section of the Copyright Act allowance is made for fair use for purposes such as c غزل پریم ناتھ بسملؔ ’’ چاہتا ہوں کہ تم سے پیار کروں غزل پریم ناتھ بسملؔ ’’ چاہتا ہوں کہ تم سے پیار کروں ‘‘ آپ سب کی نذر ۔ ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ‫theurducom غزل لباس عشق پہن کر جو استخارہ کیا بس ایک غزل لباس عشق پہن کر جو استخارہ کیا بس ایک بار کیا پھر نہیں دوبارہ کیا غریب شہر کے لوگوں سے نہ الجھنا ابھی ہوائے.

Summary ↠ E-book, or Kindle E-pub ↠ Ahmad Faraz

غزل بہانہ کروں

شہر نے اس بات سے کنارا کیا خود اسکا احمد فراز آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا غزل بہانہ کروں; جاناں جاناں ; اے عشق جنوں پیشہ; نمونہ کلام اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھی خوابوں ميں مليں اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھی خوابوں ميں مليں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ميں مليں ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں ميں وفا کے موت TAL Forum Official Spokesperson of TAL Forum Bushra Official Spokesperson of TAL Forum Bushra Tanoli has few words for all of you Instagram شاعری بہانہ ہے April شاعری بہانہ ہے سخن پسند دوستوں کے لئے میری ادنیٰ سی کوشش، امید ہے آپکو اچھی لگے لگی۔ اپنی پسند ناپسند اور قیمتی آراء سے ضرور نوازیئے گا۔ ابرار قریشی Saturday April غزل | یوں فراموش کروں تم کو کہ عمر بھر یاد آ نہ سکو یوں ‫Salain Janjua غزل پہروں دیکھتا ہوں ان راہوں کو ملے تھے غزل پہروں دیکھتا ہوں ان راہوں کو ملے تھے جہاں سفر رواں میں برسوں سے نگاہیں تاک میں لگی ہیں تجھے ڈھونڈو کہاں میں سرراہے ہی سہی، ملاقات تو ہوئی تھی، تمہیں یاد تو ہو گا جاناں بھولےنہیں بھولتی وہ موضوع غزل پر اشعار Archive OneUrdu Forums Old Archive غزل بہانہ کروں اور گُنگُناؤں اُسے احمد فراز UM SiteAdmins PM اوروں پہ کہے شعر تو آورد تھے جاناں جو تُجھ پہ لکھے شعر وہ الہام سے اُترے احمد فراز UM SiteAdmins PM یہ غزل کس کی ھے اس مطلعے کو پڑھ کر دیکھو چاند کی چود اردو ادب | Urdusfhaat غزل کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاوں اسے غزل بہانہ کروں اور گنگناوں اسے وہ خار خار ہے شاخِ گلاب کی مانند میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں | سخن سرا غزل سرا; آنگن آنگن رات; شہر پناہ; سُرخ لبوں کی آگ; دِل دِل کرب کمان; اَکھیاں بیچ الاؤ; ماجد نشان; ماجد صدیقی ۔ پنجابی کلام میں کنّے پانی وچ آ.

Ahmad Faraz ↠ 9 Free read

Ghazal Bhana Karun غزل بہانہ کروں ‎Ghazal Bhana Karun غزل بہانہ کروں‎ de agosto a las کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کر تے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے | سخن سرا غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے سخن سرا اردو اور پنجابی ادب کی شاہکار نظمیں، غزلیں اور نثر Ghazal Bhana Karun غزل بہانہ کروں ‎Ghazal Bhana Karun غزل بہانہ کروں‎ 月日 کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کر تے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور Ghazal Bhana Karun غزل بہانہ کروں ‎Ghazal Bhana Karun غزل بہانہ کروں‎のその他のコンテンツをFacebookでチェック ログイン アカウントを忘れた場合 または 新しいアカウントを作成 後で 関連するページ پسندیدہ اشعار 本 اردو غزليات نديم ولى کے ساتھ 作家・ライター Selected Urdu Poetry بهترین اردو غزل کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اُسے آشا بھوسلے on Vimeo کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اُسے غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اُسے وہ خار خار ہے شاخِ گلاب کی مانند میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اُسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں ‫Urdu Poetry کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے غزل غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے وہ خار خار ہے شاخ گلاب کی مانند میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے میں کیسے بات کروں اب کہاں سے لاؤں اسے مگر وہ زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے ‫Urdu Poetry کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے غزل کروں نہ یاد مگر کس.


2 thoughts on “غزل بہانہ کروں

  1. says:

    کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسےغزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسےview spo

  2. says:

    Karon na yaad magar kis tarah bhula'on ussyGhazal Bahana karun aur Gunguna'on ussyFaraz's poetry is not for the happy hearts but for the sad ones His words dictate the way of life essential to be lived Never the